رباعی
- زہاد کا غفلت سے ہے اوراد و سجود
- ژولیدہ معما ہے جہان پر پیچ
- یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھا
- یہ شہر بلند عالم بالا سے تھا
- یارب تجھے فکر پائے بندی کیا ہے
- یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰ
- یاں ہم کو دیا کیا جو وہاں پر ہو نگاہ
- وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہا
- اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیں
- تھا آدم خاکی غضب بے زنہار
- تا ماہ صیام ہوئے باب امید
- شہہ کہتے تھے افسوس نہ کہنا مانے
- صد حیف کہ مے نوش ہوئے ہم کیسے
- ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہے
- ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام
- منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تک
- محراب و مصلیٰ اور زاہد بھی وہی
- مسجد میں نہ جا واں نہیں ہونے کا نباہ
- مسجد کو دیا چھوڑ ریا کی خاطر
- مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیں
- لو جائیے بس خدا ہمارا حافظ
- لازم ہے کہ فکر رخ دلبر چھوڑوں
- کیا ذکر وفا جفا کسی سے نہ بنی
- کیا لینے سوئے جاہ و حشم جائیں گے
- کیا جانیے الفت کا ہے کس سے آغاز
- کس واسطے دی تھیں ہمیں یارب آنکھیں
- کس طرح سے گریہ کو نہ ہو طغیانی
- کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کر
- خورشید پہ جس وقت زوال آتا ہے
- خود رفتہ ہو بدمست ہو کیسا ہے مزاج
- کل تک تھی خلد خانہ زاد دہلی
- کہتا ہوں خدا لگتی عقیدے کے خلاف
- جو جا کے نہ آئے پھر جوانی ہے یہ شے
- جاہل کی ہے میراث قلقؔ تخت و تاج
- جب باپ موا تو پھر ہے بیٹا کیا شے
- جاں جائے پر امید نہ جائے گی کبھی
- اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیں
- اس بزم سے میدان میں جانا ہوگا
- اس عہد میں احتساب ایمانی کیا
- ہم کون ہیں اہتمام کرنے والے
- ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کر
- ہر طرح سے ضائع ہے یہاں ہر اوقات
- ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامال
- ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر
- ہے مہر کرم گناہ گاری میری
- ہے دوستیٔ آل عبا رونے سے
- ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم
- غیروں کو شب وصل بلانے سے غرض
- گردن کو جھکا دیتا ہے ادنیٰ احسان
- گاہے تو کرم ہم پہ بھی فرمائیں آپ
- فانی کے ہے نزدیک بقا کو بھی فنا
- دنیا میں قلقؔ کیا ہے سراسر ہے خاک
- دنیا کا تمام کارخانہ ہے عبث
- دنیا کا عجب رنگ سے دیکھا انگیز
- دنیا ہے عجب بو قلموں ضد آموز
- دیں ہی بے ہوش ہے نہ دنیا بے ہوش
- دل سے مجھے آنے کی ہے آن کی آہٹ
- دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے
- دل دیر گزاری سے ہے آوند نمک
- دروازے پہ تیرے ہی مروں گا یارب
- دامن سے گل تازہ مہکتے نکلے
- بے برگ و نوا کی شعر خوانی معلوم
- بانو نے کہا قطرہ نہیں شیر کا ہے
- اے پردہ نشیں سہل ہوا یہ اشکال
- اے چشم غمیں تیرے عوض روئے کون
- اے ابر کہاں تک ترے رستے دیکھیں
- افسوس تری وضع پہ آتا ہے قلقؔ
- افسانۂ یار بہر وصلت ہے لذیذ
- آلودہ خیالات میں تیرے ہوں مدام