ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام

ناحق تھا قلقؔ مجھے غرور اسلام

مردود ہوا کرتی ہے نظر اصنام

محراب ہے مسجد میں مرا افسانہ

توبہ ہے ہوا ہوں میں بھی کیا ہی بدنام

ماخذ: ویکی ماخذ · قلق میرٹھی