منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تک

منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تک

اس سلسلۂ‌ پا کو نہ توڑوں کب تک

تو مجھ سے عدو تجھ سے غرض سب ہی چھٹے

آخر تری امید نہ چھوڑوں کب تک

ماخذ: ویکی ماخذ · قلق میرٹھی