ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر
ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر
ہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمر
انساں کی کوئی فصل نہ پھر کر آئے
اول ہی کا جھوکا ہے بہار آخر
ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر
ہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمر
انساں کی کوئی فصل نہ پھر کر آئے
اول ہی کا جھوکا ہے بہار آخر
ماخذ: ویکی ماخذ · قلق میرٹھی