کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کر

کس طرح کہوں آ بھی کہیں عذر نہ کر

رسوائی ناموس کا ہے کس کو ڈر

وہ پردہ نشیں خلوت دل میں کیا آئے

امید تو جاتی نہیں دل سے باہر

ماخذ: ویکی ماخذ · قلق میرٹھی