دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے
دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے
کعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائے
بوسے میں اگر دوں حجر اسود پر
لب ہائے مے آلود سے گل گوں ہو جائے
دل جوش معاصی سے نہ کیوں خوں ہو جائے
کعبہ بھی مرے طوف سے مجنوں ہو جائے
بوسے میں اگر دوں حجر اسود پر
لب ہائے مے آلود سے گل گوں ہو جائے
ماخذ: ویکی ماخذ · قلق میرٹھی