بال جبریل (۱۹۳۵)
- اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں
- پُھول کی پتّی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
- میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میں
- ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
- اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا
- گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
- دِلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر
- اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریاد
- جوانوں کو مری آہِ سَحر دے
- کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
- پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے
- تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہی
- دگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
- کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں مَیں
- لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
- وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے
- مِٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و تو
- کبھی آوارہ و بے خانماں عشق
- متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
- کبھی تنہائیِ کوہ و دمن عشق
- تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
- عطا اسلاف کا جذبِ دُروں کر
- ضمیرِ لالہ مئے لعل سے ہُوا لبریز
- یہ نکتہ میں نے سیکھا بُوالحسن سے
- وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی
- خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے
- اپنی جولاں گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں
- خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے
- اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی
- یہی آدم ہے سُلطاں بحر و بَر کا
- یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکن
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیز
- وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوں
- عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیں
- تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر
- امینِ راز ہے مردانِ حُر کی درویشی
- پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
- مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
- عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم
- دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہے
- ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
- پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی
- یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا حجاب
- دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری
- خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیں
- میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف
- زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
- یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاک
- کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوری
- عقل گو آستاں سے دُور نہیں
- خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
- یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی
- تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ
- خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
- نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
- نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
- تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیں
- خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
- افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
- ہر شے مسافر، ہر چیز راہی
- ہر چیز ہے محوِ خود نمائی
- اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
- خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
- جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
- مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا
- نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقی
- فطرت کو خِرد کے رُوبرو کر
- یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری
- تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیم
- ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
- ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام
- خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل
- مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟
- حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
- رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقی
- ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک
- یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ
- نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے
- فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک
- کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد
- کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی
- نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی
- گرمِ فغاں ہے جَرس، اُٹھ کہ گیا قافلہ
- مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامی
- ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نو
- کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش
- تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی
- ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگ
- فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ
- کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں گرمِ طواف
- شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب
- رہ و رسمِ حرم نا محرمانہ
- ظلامِ بحر میں کھو کر سنبھل جا
- مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوں
- خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیں
- پریشاں کاروبارِ آشنائی
- یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی
- عرب کے سوز میں سازِ عجم ہے
- کوئی دیکھے تو میری نَے نوازی
- ہر اک ذرّے میں ہے شاید مکیں دل
- ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے
- نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری
- خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائی
- نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میں
- جمالِ عشق و مستی نَے نوازی
- وہ میرا رونقِ محفل کہاں ہے
- سوارِ ناقہ و محمل نہیں مَیں
- ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے
- ترا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو
- محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہے
- خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جا
- چمن میں رختِ گُل شبنم سے تر ہے
- خرد سے راہرو روشن بصر ہے
- دُعا (ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو)
- دمِ عارف نسیمِ صبح دم ہے
- مسجدِ قُرطُبہ
- قید خانے میں معتمدؔ کی فریاد
- عبد الرّحمٰن اوّل کا بویا ہُوا کھجور کا پہلا درخت
- رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے
- ہسپانیہ
- کھُلے جاتے ہیں اسرارِ نہانی
- طارق کی دُعا
- زمانے کی یہ گردش جاودانہ
- لینن
- فرشتوں کا گیت
- فرمانِ خدا
- حکیمی، نامسلمانی خودی کی
- ذوق و شوق
- پَروانہ اور جُگنو
- جاوید کے نام (خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ)
- گدائی
- مُلّا اور بہشت
- دین وسیاست
- اَلْاَرْضُ للہ!
- ایک نوجوان کے نام
- نصیحت (بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سالخورد)
- لالۂ صحرا
- اقبالؔ نے کل اہلِ خیاباں کو سُنایا
- ساقی نامہ
- زمانہ
- فرشتے آدم کو جنّت سے رُخصت کرتے ہیں
- رُوحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے
- فطرت مری مانندِ نسیمِ سحرَی ہے
- پِیر و مُرید
- ترا تن رُوح سے ناآشنا ہے
- جبریل واِبلیس
- کل اپنے مُریدوں سے کہا پِیرِ مغاں نے
- اذان
- اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
- محبت (شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی)
- ستارے کاپیغام
- جاوید کے نام (دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر)
- فلسفہ ومذہب
- یورپ سے ایک خط
- نپولین کے مزار پر
- مسولینی (نُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلاب)
- سوال
- پنچاب کے دہقان سے
- نادِر شاہ افغان
- خوشحال خاںکی وصیّت
- تاتاری کا خواب
- حال و مقام
- ابوالعلامعرّیؔ
- سنیما
- پنچاب کے پِیرزادوں سے
- سیاست
- فَقر
- خودی
- جُدائی
- خانقاہ
- اِبلیس کی عرضداشت
- لہُو
- پرواز (محمد اقبال)
- شیخِ مکتب سے
- فلسفی
- شاہِیں
- باغی مُرید
- ہارون کی آخری نصیحت
- ماہرِ نفسیات سے
- یورپ
- آزادیِ افکار
- شیر اور خچّر
- چیونٹی اور عقاب