ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے

ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے

ترا دَم گرمیِ محفل نہیں ہے

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور

چراغِ راہ ہے، منزل نہیں ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال