خرد سے راہرو روشن بصر ہے
خرد سے راہرو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہے
درُونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے!
خرد سے راہرو روشن بصر ہے
خرد کیا ہے، چراغِ رہ گزر ہے
درُونِ خانہ ہنگامے ہیں کیا کیا
چراغِ رہ گزر کو کیا خبر ہے!
ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال