فَقر

اک فقر سِکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری

اک فقر سے کھُلتے ہیں اسرارِ جہاں گیری

اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دِلگیری

اک فقر سے مٹّی میں خاصیّتِ اِکسیری

اک فقر ہے شبیّری، اس فقر میں ہے مِیری

میراثِ مسلمانی، سرمایۂ شبیّری!

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال