رباعی
- ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک
- عریاں سر خاتون زمن ہے اب تک
- الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیں
- ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے
- تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد
- سوز غم دوری نے جلا رکھا ہے
- شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگا
- سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرح
- رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
- راہی طرف عالم بالا ہوں میں
- قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی
- پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو
- مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میں
- لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہ
- کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرے
- کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیح
- کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھا
- کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوس
- کھو دل کے مرض کو اے طبیب امت
- کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرف
- جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھا
- جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہے
- جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریں
- اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے
- عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یارب
- ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تک
- ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکل
- ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آواز
- ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکف
- گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئے
- گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے
- گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں
- غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گا
- فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملی
- دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ
- دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
- دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب
- دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھا
- داماد رسول کی شہادت ہے آج
- بست و یکم ماہ محرم ہے آج
- بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرا
- بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھا
- بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشا
- برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آج
- بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
- بادل آ کے رو گئے ہائے غضب
- اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں
- اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا
- انجام پہ اپنے آہ و زاری کر تو
- انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو
- اللہ اللہ عز و جاہ ذاکر
- اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک
- اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیا
- اے شاہ کے غم میں جان کھونے والو
- اے مومنو فاطمہ کا پیارا شبیر
- اے خالق ذوالفضل و کرم رحمت کر
- اے بخت رسا سوئے نجف راہی کر
- احباب سے امید ہے بیجا مجھ کو
- افزوں ہیں بیاں سے معجزات حیدر
- افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیں
- اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا
- اب وقت سرور و فرحت اندوزی ہے
- اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے
- اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں
- اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے
- آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے
- اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایا
- آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا
- آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا