بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
ہشیار انیس تو مسافر ہے اب
پیدا ہے سپیدی سحر پیری کی
لے خواب سے چونک رات آخر ہے اب
بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب
ہشیار انیس تو مسافر ہے اب
پیدا ہے سپیدی سحر پیری کی
لے خواب سے چونک رات آخر ہے اب