بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب

بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب

ہشیار انیس تو مسافر ہے اب

پیدا ہے سپیدی سحر پیری کی

لے خواب سے چونک رات آخر ہے اب

ماخذ: ویکی ماخذ · میر انیس