ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک

ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک

قربان شہہ جن و بشر ہیں اب تک

ہوتے ہیں علم آگے جب اٹھتی ہے ضریح

عباس علی سینہ سپر ہیں اب تک

ماخذ: ویکی ماخذ · میر انیس