رباعی
- یکسو یہ کہ عیش و کامرانی کرتے
- یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سے
- ہیں گوکہ سبھی تمھاری پیاری باتیں
- ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے
- ہم میرؔ سے کہتے ہیں نہ تو رویا کر
- ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوب
- ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیں
- ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیر
- ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گی
- ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھے
- ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری
- ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
- ہر روز نیا ایک تماشا دیکھا
- ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخر
- کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا
- کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیں
- کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے
- کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے
- کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہے
- کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے
- کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارے
- کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہل
- کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری
- کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤں
- کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخر
- کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر
- کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھے
- کو عمر کہ اب فکر امیری کریے
- کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیں
- کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری
- کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتا
- وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے
- وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارے
- میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر
- میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھو
- ملیے اس شخص سے جو آدم ہووے
- ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہے
- مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا
- مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراک
- مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہے
- محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگا
- مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا
- لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہے
- گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیم
- گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیں
- گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجے
- طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے
- طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیر
- شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا
- سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیے
- زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایا
- روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر
- رنجش کی کوئی اس کی روایت نہ سنی
- راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیے
- دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہے
- دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیں
- دل غم سے ہوا گداز سارا اللہ
- دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد
- دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے
- دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خواب
- دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا
- دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تاب
- درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے
- دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نے
- حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیرا
- حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے
- حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہ
- حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشی
- چپکے رہنا نہ میرؔ دل میں ٹھانو
- چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے
- جس وقت شروع یہ حکایت ہوگی
- جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک
- جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوس
- تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا
- تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نے
- تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کو
- تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگا
- پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کا
- پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا
- پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش
- پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کرو
- پرپیچ بہت ہے شکن زلف سیاہ
- بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگو
- بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئے
- اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے
- اے تازہ نہال عاشقی کے مالی
- ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہو
- اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے
- اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی
- اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میں
- اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش
- اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میں
- اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں
- افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئی
- اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ
- اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے
- اترا تھا غریبانہ کنارے آکر
- ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا
- اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے
- اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار
- اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں
- آب حیواں نہیں گوارا ہم کو
- آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کو
- تم تو اے مہربان انوٹھے نکلے
- اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتے