رباعی

  1. یکسو یہ کہ عیش و کامرانی کرتے
  2. یاروں کو کدورتیں ہیں اب تو ہم سے
  3. ہیں گوکہ سبھی تمھاری پیاری باتیں
  4. ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے
  5. ہم میرؔ سے کہتے ہیں نہ تو رویا کر
  6. ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوب
  7. ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیں
  8. ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیر
  9. ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گی
  10. ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھے
  11. ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری
  12. ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
  13. ہر روز نیا ایک تماشا دیکھا
  14. ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخر
  15. کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا
  16. کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیں
  17. کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے
  18. کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے
  19. کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہے
  20. کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے
  21. کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارے
  22. کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہل
  23. کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری
  24. کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤں
  25. کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخر
  26. کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر
  27. کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھے
  28. کو عمر کہ اب فکر امیری کریے
  29. کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیں
  30. کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری
  31. کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتا
  32. وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے
  33. وصف اپنے دنوں کے کس سے کہیے سارے
  34. میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر
  35. میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھو
  36. ملیے اس شخص سے جو آدم ہووے
  37. ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہے
  38. مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا
  39. مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراک
  40. مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہے
  41. محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگا
  42. مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا
  43. لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہے
  44. گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیم
  45. گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیں
  46. گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجے
  47. طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے
  48. طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیر
  49. شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا
  50. سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیے
  51. زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایا
  52. روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر
  53. رنجش کی کوئی اس کی روایت نہ سنی
  54. راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیے
  55. دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہے
  56. دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیں
  57. دل غم سے ہوا گداز سارا اللہ
  58. دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد
  59. دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے
  60. دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خواب
  61. دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا
  62. دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تاب
  63. درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے
  64. دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نے
  65. حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیرا
  66. حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے
  67. حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہ
  68. حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشی
  69. چپکے رہنا نہ میرؔ دل میں ٹھانو
  70. چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے
  71. جس وقت شروع یہ حکایت ہوگی
  72. جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک
  73. جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوس
  74. تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا
  75. تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نے
  76. تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کو
  77. تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگا
  78. پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کا
  79. پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا
  80. پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش
  81. پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کرو
  82. پرپیچ بہت ہے شکن زلف سیاہ
  83. بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگو
  84. بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئے
  85. اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے
  86. اے تازہ نہال عاشقی کے مالی
  87. ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہو
  88. اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے
  89. اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی
  90. اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میں
  91. اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش
  92. اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میں
  93. اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں
  94. افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئی
  95. اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ
  96. اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے
  97. اترا تھا غریبانہ کنارے آکر
  98. ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا
  99. اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے
  100. اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار
  101. اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں
  102. آب حیواں نہیں گوارا ہم کو
  103. آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کو
  104. تم تو اے مہربان انوٹھے نکلے
  105. اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتے