پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش
پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش
رکھتی نہیں حد اہل وفا کی خواہش
جاتے ہیں چلے جی ہی بتوں کی خاطر
معلوم نہیں کیا ہے خدا کی خواہش
پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش
رکھتی نہیں حد اہل وفا کی خواہش
جاتے ہیں چلے جی ہی بتوں کی خاطر
معلوم نہیں کیا ہے خدا کی خواہش
ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر