پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا
پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا
جی اور منغض اپنا کرتا ہے گا
سب مل کے چلو بارے اسے سمجھاویں
افسوس کہ وہ جوان مرتا ہے گا
پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا
جی اور منغض اپنا کرتا ہے گا
سب مل کے چلو بارے اسے سمجھاویں
افسوس کہ وہ جوان مرتا ہے گا
ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر