وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے

وہ عہد گیا کہ جور اس کے سہیے

وہ بات نہیں رہی کہ چپکے رہیے

جب جی ہی چلا میرؔ تو صرفہ کیا ہے

بے صرفہ جو کچھ کہ منھ میں آئے کہیے

ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر