جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک

جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک

پاکیزہ تری طبع و خو ہے نازک

بلبل نے سمجھ کے کیا تجھے نسبت دی

گل سے تو ہزار پردہ تو ہے نازک

ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر