شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا

شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا

آیا دل داغ کر گیا جس تس کا

اس سے ناگاہ ایک بجلی چمکی

کیا جانیے ان نے گھر جلایا کس کا

ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر