درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے
درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے
غفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارے
آتے ہیں نظر جاتے یہ سارے اسباب
سوجھے گی کبھو بھی آہ تجھ کو پیارے
درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے
غفلت سے نہیں نگاہ تجھ کو پیارے
آتے ہیں نظر جاتے یہ سارے اسباب
سوجھے گی کبھو بھی آہ تجھ کو پیارے
ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر