ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
خونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے
یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے
ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
خونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے
یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے
ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر