اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش

اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش

ٹکڑے ہے جگر جیسے لباس درویش

ہاتھوں سے جو آج ہوسکے کر لیجے

پھر کل تو ہمیں ہے اک قیامت درپیش

ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر