چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے
چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے
کیا حرف و سخن عیب ہے کچھ محرم سے
آخر کو رکے رہتے جنوں ہوتا ہے
اے میرؔ کوئی بات کیا کر ہم سے
چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے
کیا حرف و سخن عیب ہے کچھ محرم سے
آخر کو رکے رہتے جنوں ہوتا ہے
اے میرؔ کوئی بات کیا کر ہم سے
ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر