میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر

میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر

سو یاری بخت سے ہیں بار خاطر

ووں خاک میں آپ کو ملاکر اول

آخر کو ہوئے ہیں یوں غبار خاطر

ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر