ضربِ کلیم (۱۹۳۶)
- نہیں مقام کی خُوگر طبیعتِ آزاد
- اعلیٰحضرت نوّاب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں
- ناظرین سے (ضربِ کلیم)
- تمہید (ضربِ کلیم)
- صُبح
- لا الٰہ الاّ اللہ
- تن بہ تقدیر
- مِعراج
- ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام
- زمین و آسماں
- مسلمان کا زوال
- عِلم و عِشق
- اِجتہاد
- شُکر و شکایت
- ذِکر وفِکر
- مُلّائے حَرم
- تقدیر (نااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروت)
- توحید (محمد اقبال)
- علم اور دین
- ہِندی مسلمان
- آزادیِ شمشیر کے اعلان پر
- جِہاد
- قُوّت اور دین
- فَقر و مُلوکیّت
- اِسلام
- حیاتِ اَبدی
- سُلطانی
- صُوفی سے
- اَفرنگ زدہ
- تصوّف
- ہِندی اِسلام
- غزل (دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ)
- دُنیا
- نماز
- وَحی
- شکست
- عقل و دِل (ہر خاکی و نُوری پہ حکومت ہے خرد کی)
- مستیِ کردار
- قَبر
- قلندر کی پہچان
- فلسفہ
- مردانِ خُدا
- کافر و مومن
- مہدیِ برحق
- مومن
- محمد علی باب
- تقدیر (اِبلیس و یَزداں)
- اے رُوحِ محمدؐ
- مَدنِیَّتِ اسلام
- اِمامت
- فَقر و راہبی
- غزل (تیری متاعِ حیات، علم و ہُنر کا سُرور)
- تسلیم و رِضا
- نکتۂ توحید
- اِلہام اور آزادی
- جان و تن
- لاہور و کراچی
- نُبوّت
- آدم
- مکّہ اور جنیوا
- اے پِیرِ حرم
- مہدی
- مردِ مسلمان
- پنجابی مسلمان
- آزادی
- اِشاعتِ اسلام فرنگستان میں
- لا و اِلّا
- امُرَائے عرب سے
- احکامِ الٰہی
- موت
- قُم بِاذنِ اللہ
- مقصود
- زمانۂ حاضر کا انسان
- اقوامِ مشرق
- آگاہی
- مُصلحینِ مشرق
- مغربی تہذیب
- اَسرارِ پیدا
- سُلطان ٹِیپُو کی وصیّت
- غزل (نہ میں اعجمی نہ ہندی، نہ عراقی و حجازی)
- بیداری
- خودی کی تربیت
- آزادیِ فکر
- خودی کی زندگی
- حکومت
- ہندی مکتب
- تربیت
- خُوب و زِشت
- مرگِ خودی
- مہمانِ عزیز
- عصرِ حاضر
- طالبِ علم
- امتحان
- مدرَسہ
- حکیم نطشہ
- اساتِذہ
- غزل (مِلے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغ)
- دِین و تعلیم
- جاوید سے
- مردِ فرنگ
- ایک سوال
- پردہ
- خَلوت
- عورت (وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ)
- آزادیِ نسواں
- عورت کی حفاظت
- عورت اور تعلیم
- عورت (جوہرِ مرد عیاں ہوتا ہے بے منَّتِ غیر)
- دِین وہُنر
- تخلیق
- جُنوں
- اپنے شعر سے
- پیرس کی مسجد
- ادبیات
- نگاہ
- مسجدِ قُوّت الاسلام
- تِیاتَر
- شُعاعِ اُمِّید
- اُمِّید
- نگاہِ شوق
- اہلِ ہُنر سے
- غزل (دریا میں موتی، اے موجِ بے باک)
- وُجود
- سرود
- نسیم و شبنم
- اَہرامِ مصر
- مخلوقاتِ ہُنر
- اقبالؔ
- فنونِ لطیفہ
- صُبحِ چمن
- خاقانیؔ
- رومی
- جِدّت
- مِرزا بیدلؔ
- جلال و جمال
- مُصّور
- سرودِ حلال
- سرودِ حرام
- فوّارہ
- شاعر (مشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَے)
- شعرِ عجَم
- ہُنَرورانِ ہند
- مردِ بزرگ
- عالَمِ نو
- ایجادِ معانی
- موسِیقی
- ذوقِ نظر
- شعر
- رقص و موسیقی
- ضبط
- رقص
- اِشتراکِیت
- کارل مارکس کی آواز
- اِنقلاب
- خوشامد
- مناصب
- یورپ اور یہود
- نفسیاتِ غلامی (شاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھی)
- بلشویک رُوس
- آج اور کل
- مشرق
- سیاستِ افرنگ
- خواجگی
- غلاموں کے لیے
- اہلِ مِصر سے
- ابی سِینیا
- اِبلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام
- جمعیتِ اقوام مشرق
- سُلطانیِ جاوید
- جمہُوریت
- یورپ اور سُوریا
- مسولینی (کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم)
- گِلہ
- اِنتداب
- لادِین سیاست
- دامِ تہذیب
- نصیحت (اک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسَر سے)
- ایک بحری قزاّق اور سکندر
- جمعِیّتِ اقوام
- شام و فلسطین
- سیاسی پیشوا
- نفسیاتِ غلامی (سخت باریک ہیں اَمراضِ اُمَم کے اسباب)
- غلاموں کی نماز
- فلسطِینی عر ب سے
- مشرق و مغرب
- نفسیاتِ حاکمی
- میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
- حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوام
- تِری دُعا سے قضا تو بدل نہیں سکتی
- کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہ
- یہ مَدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارَو
- جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجاد
- رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندُستان
- زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَر
- عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَس
- وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
- جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوش
- لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُو
- مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دِگرگُوں
- بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہی
- آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد
- قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی
- آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کو
- یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سُوری نے
- نگاہ وہ نہیں جو سُرخ و زرد پہچانے
- فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی