حیاتِ اَبدی

زندگانی ہے صدَف، قطرۂ نیساں ہے خودی

وہ صدَف کیا کہ جو قطرے کو گُہر کر نہ سکے

ہو اگر خودنِگر و خودگر و خودگیر خودی

یہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال