وُجود

اے کہ ہے زیرِ فلک مثلِ شرر تیری نمود

کون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقاماتِ وجود!

گر ہُنَر میں نہیں تعمیرِ خودی کا جوہر

وائے صُورت گری و شاعری و ناے و سرود!

مکتب و مے کدہ جُز درسِ نبودن ندہند

بودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال