مردانِ خُدا

وہی ہے بندۂ حُر جس کی ضَرب ہے کاری

نہ وہ کہ حَرب ہے جس کی تمام عیّاری

ازل سے فطرتِ احرار میں ہیں دوش بدوش

قلندری و قبا پوشی و کُلہ داری

زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے

اُنھی کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری

وجود انھی کا طوافِ بُتاں سے ہے آزاد

یہ تیرے مومن و کافر، تمام زُنّاری!

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال