صُبح
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
٭ بھوپال (شیش محل) میں لِکھّے گئے
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
٭ بھوپال (شیش محل) میں لِکھّے گئے
ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال