رباعی
- یہ قول کسی بزرگ کا سچا ہے
- یہ مسئلۂ دقیق سنئے ہم سے
- یارب کوئی نقش مدعا بھی نہ رہے
- واحد متکلم کا ہو جو منکر
- تھا رنگ بہار بے نوائی کہ نہ تھا
- تیزی نہیں منجملۂ اوصاف کمال
- توحید کی راہ میں ہے ویرانۂ سخت
- تاریک ہے رات اور دنیا ذخار
- تقریر سے وہ فزوں بیان سے باہر
- شیطان کرتا ہے کب کسی کو گمراہ
- ساقی و شراب و جام و پیمانہ کیا
- قلاش ہے قوم تو پڑھے گی کیوں کر
- پر شور الفت کی ندا ہے اب بھی
- پانی میں ہے آگ کا لگانا دشوار
- نقاش سے ممکن ہے کہ ہو نقش خلاف
- مقصود ہے قید جستجو سے باہر
- معلوم کا نام ہے نشاں ہے نہ اثر
- مکشوف ہوا کہ دید حیرانی ہے
- مجموعۂ خار و گل ہے زیب گلزار
- لاکھوں چیزیں بنا کے بھیجیں انگریز
- کیا کہتے ہیں اس میں مفتیان اسلام
- کس طور سے کس طرح سے کیوں کر پایا
- خاک نمناک اور تابندہ نجوم
- کاٹھ کی ہنڈیا چڑھی کب بار بار
- کرتا ہوں سدا میں اپنی شانیں تبدیل
- کیفیت و ذوق اور ذکر و اوراد
- کہتے ہیں سبھی مسدام اللہ اللہ
- کہتے ہیں جو اہل عقل ہیں دور اندیش
- کافر کو ہے بندگی بتوں کی غم خوار
- جو تیز قدم تھے وہ گئے دور نکل
- جو صاحب مکرمت تھے اور دانش مند
- جو چاہئے وہ تو ہے ازل سے موجود
- جس درجہ ہو مشکلات کی طغیانی
- جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہا
- جب گوئے زمیں نے اس پہ ڈالا سایہ
- اسراف سے احتراز اگر فرماتے
- انساں کو چاہئے نہ ہمت ہارے
- انکار نہ اقرار نہ تصدیق نہ ایجاب
- اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروش
- عید رمضاں ہے آج با عیش و سرور
- عید قرباں ہے آج اے اہل ہمہم
- ہم عالم خواب میں ہیں یا ہم ہیں خواب
- ہوتی نہیں فکر سے کوئی افزائش
- ہر خواہش و عرض و التجا سے توبہ
- حقا کہ بلند ہے مقام اکبر
- حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطل
- ہے شکر درست اور شکایت زیبا
- ہے عشق سے حسن کی صفائی ظاہر
- ہے بار خدا کہ عالم آرا تو ہے
- گر روح نہ پابند تعین ہوتی
- گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہے
- گر جور و جفا کرے تو انعام سمجھ
- فطرت کے مطابق اگر انساں لے کام
- اک عالم خواب خلق پر طاری ہے
- دنیا کو نہ تو قبلۂ حاجات سمجھ
- دنیا کے لئے ہیں سب ہمارے دھندے
- دنیا کا نہ کھا فریب ویراں ہے یہ
- دین اور دنیا کا تفرقہ ہے مہمل
- ڈھونڈا کرے کوئی لاکھ کیا ملتا ہے
- دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا ہرگز
- دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
- چوپائے کی طرح تو کتابوں سے نہ لد
- چکھی بھی ہے تو نے درد جام توحید
- برہان و دلیل عین گمراہی ہے
- بے کار نہ وقت کو گزارو یارو
- بندہ ہوں تو اک خدا بناؤں اپنا
- با ایں ہمہ سادگی ہے پرکاری بھی
- بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے
- اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمود
- اپنے ہی دل اپنوں کا دکھاتے ہیں بہت
- الحق کہ نہیں ہے غیر ہرگز موجود
- اکثر نے ہے آخرت کی کھیتی بوئی
- اے بے خبری کی نیند سونے والو
- اے بار خدا یہ شور و غوغا کیا ہے
- احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعار
- احمد کا مقام ہے مقام محمود
- افسردگی اور گرم جوشی بھی غلط
- اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلول
- آیا ہوں میں جانب عدم ہستی سے
- عاجز ہے خیال اور تفکر حیراں