گر روح نہ پابند تعین ہوتی
گر روح نہ پابند تعین ہوتی
یوں درد فراق سے نہ ہر دم روتی
جب تک کہ ہے درمیاں صدف کا پردہ
دریا میں بھی دریا سے جدا ہے موتی
گر روح نہ پابند تعین ہوتی
یوں درد فراق سے نہ ہر دم روتی
جب تک کہ ہے درمیاں صدف کا پردہ
دریا میں بھی دریا سے جدا ہے موتی
ماخذ: ویکی ماخذ · اسماعیل میرٹھی