دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
کچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملال
قربت ہے نہ بعد ہے نہ فرقت نہ وصال
یہ بھی ہے خیال اور وہ بھی ہے خیال
دراصل کہاں ہے اختلاف احوال
کچھ رنج نہ راحت نہ مسرت نہ ملال
قربت ہے نہ بعد ہے نہ فرقت نہ وصال
یہ بھی ہے خیال اور وہ بھی ہے خیال
ماخذ: ویکی ماخذ · اسماعیل میرٹھی