رباعی
- یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کو
- صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سے
- پھر چرخ پر آسمان پیر آیا ہے
- پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے
- مشہور جہاں ہے داستان شیریں
- کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہے
- اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہے
- اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیں
- اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیں
- ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائے
- ہم شان نجف نہ عرش انور ٹھہرا
- ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہے
- فرمان علی لوح و قلم تک پہنچا
- درگاہ علم دار سے بہبودی ہے
- اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کر
- ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہے
- آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
- آفاق سے استاد یگانہ اٹھا
- اعدا کو ادھر حرام کا مال ملا