پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے
پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے
عالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہے
مصباح و نجوم آفتاب و مہتاب
جس نور کو دیکھتا ہوں ضو تیری ہے
پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہے
عالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہے
مصباح و نجوم آفتاب و مہتاب
جس نور کو دیکھتا ہوں ضو تیری ہے
ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا سلامت علی دبیر