آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
غل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائے
اشکوں سے جھڑی لگے وہ شہ کے غم کی
ساون کی گھٹا شرم سے پانی ہو جائے
آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائے
غل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائے
اشکوں سے جھڑی لگے وہ شہ کے غم کی
ساون کی گھٹا شرم سے پانی ہو جائے
ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا سلامت علی دبیر