ارمغان حجاز (۱۹۳۸)
- اِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ
- بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو
- تصویر و مُصوّر
- عالمِ بَرزخ
- معزول شہنشاہ
- دوزخی کی مُناجات
- مسعود مرحوم
- آوازِ غیب
- مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
- فراغت دے اُسے کارِ جہاں سے
- دِگرگُوں عالمِ شام و سحَر کر
- غریبی میں ہُوں محسودِ امیری
- خرد کی تنگ دامانی سے فریاد
- کہا اقبالؔ نے شیخِ حرم سے
- کُہن ہنگامہ ہائے آرزو سرد
- حدیثِ بندۂ مومن دل آویز
- تمیزِ خار و گُل سے آشکارا
- نہ کر ذکرِ فراق و آشنائی
- ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
- خِرد دیکھے اگر دل کی نگہ سے
- کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر
- پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
- موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
- آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
- گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہُو
- دُرّاج کی پرواز میں ہے شوکتِ شاہیں
- رِندوں کو بھی معلوم ہیں صُوفی کے کمالات
- نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیّری
- سمجھا لہُو کی بوند اگر تُو اسے تو خیر
- کھُلا جب چمن میں کتب خانۂ گُل
- آزاد کی رگ سخت ہے مانندِ رگِ سنگ
- تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ
- دِگرگُوں جہاں اُن کے زورِ عمل سے
- نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
- چہ کافرانہ قِمارِ حیات می بازی
- ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ
- حاجت نہیں اے خطّۂ گُل شرح و بیاں کی
- خود آگاہی نے سِکھلا دی ہے جس کو تن فراموشی
- آں عزمِ بلند آور آں سوزِ جگر آور
- غریبِ شہر ہوں مَیں، سُن تو لے مری فریاد
- سر اکبر حیدری، صدرِ اعظم حیدر آباد دکن کے نام
- حُسین احمد
- حضرتِ انسان