فراغت دے اُسے کارِ جہاں سے
فراغت دے اُسے کارِ جہاں سے
کہ چھُوٹے ہر نفَس کے امتحاں سے
ہُوا پِیری سے شیطاں کُہنہ اندیش
گُناہِ تازہ تر لائے کہاں سے!
فراغت دے اُسے کارِ جہاں سے
کہ چھُوٹے ہر نفَس کے امتحاں سے
ہُوا پِیری سے شیطاں کُہنہ اندیش
گُناہِ تازہ تر لائے کہاں سے!
ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال