مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
تری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا
کلی گُل کی ہے محتاجِ کشود آج
نسیمِ صبحِ فردا پر نظر کیا!
مری شاخِ اَمل کا ہے ثمر کیا
تری تقدیر کی مجھ کو خبر کیا
کلی گُل کی ہے محتاجِ کشود آج
نسیمِ صبحِ فردا پر نظر کیا!
ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال