سمجھا لہُو کی بوند اگر تُو اسے تو خیر

سمجھا لہُو کی بوند اگر تُو اسے تو خیر

دِل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلند

گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے

دل آپ اپنے شام و سحَر کا ہے نقش بند

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال