رباعی
- زنجیر سے ہونے کا نہیں دل بھاری
- یوسف کو اس انجمن میں کیا ڈھونڈھتا ہے
- واللہ یہ زندگی بھی ہے قابل دید
- واعظ کو مناسب نہیں رندوں سے تنے
- صبح ازل و شام ابد کچھ بھی نہیں
- رونا ہے بدا جنہیں وہ جم جم روئیں
- پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے
- مشکل کوئی مشکل نہیں جینے کے سوا
- ممکن نہیں اندیشۂ فردا کم ہو
- مفلس کو مزہ زیست کا چکھنے نہ دیا
- موجوں سے لپٹ کے پار اترنے والے
- منزل کا پتا ہے نہ ٹھکانہ معلوم
- کیوں مطلب ہستی و عدم کھل جاتا
- کوئی تجھ کو پکارتا جاتا ہے
- امکان طلب سے کوئی آگاہ تو ہو
- ہاں اے دل ایذا طلب آرام نہ لے
- حیران ہے کیوں راز بقا مجھ سے پوچھ
- دنیا طلبی جائے گی کیا جان کے ساتھ
- دنیا سے الگ جا کے کہیں سر پھوڑو
- دنیا میں رہ کے راست بازی کب تک
- دیوانۂ عشق کو نصیحت توبہ
- دل کو حد سے سوا دھڑکنے نہ دیا
- دیکھوں کب تک گلوں کی یہ تشنہ لبی
- دیکھے ہیں بہت چمن اجڑتے بستے
- درد اپنا کچھ اور ہے دوا ہے کچھ اور
- چھٹ بھیوں کی شاعری کا یہ زور یہ شور
- چارہ نہیں کوئی جلتے رہنے کے سوا
- بے درد ہو کیا جانو مصیبت کے مزے
- بادل کو لگی کھلتے برستے کچھ دیر
- ارمان نکلنے کا مزہ ہے کچھ اور
- اپنی حد سے گزر گئے اب کیا ہے
- ایسا نہ ہو حق کا سامنا ہو جائے