پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے

پروانے کہاں مرتے بچھڑتے پہنچے

دیوانہ صفت ہوا سے لڑتے پہنچے

پیاس آگ میں کود کر بجھانے والے

دھن کے پکے تھے گرتے پڑتے پہنچے

ماخذ: ویکی ماخذ · یاس یگانہ چنگیزی