دیوان نایاب (۱۹۳۳)

ردیف الف

  1. جس کو وہ نقش پا نہیں ملتا
  2. پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیا
  3. اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا

ردیف ر

  1. رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر
  2. اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر

ردیف ط

  1. دیواں وفور غم سے مرا رہ گیا غلط

ردیف م

  1. ہے غلط گر عشق ہے یاری کا نام

ردیف ن

  1. تپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیں

ردیف ھ

  1. سکھایا عقل نے برسوں ہمیں علم و ہنر سب کچھ

ردیف ی

  1. سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھی
  2. لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنے
  3. وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے