جس کو وہ نقش پا نہیں ملتا
ردیف: نہیں ملتا
جس کو وہ نقش پا نہیں ملتا
ذرہ بھی خاک کا نہیں ملتا
لوگ تو روتے ہیں غم دل کو
ہم کو دل کا پتا نہیں ملتا
کس نجومی سے پوچھئے جا کر
یار ملتا ہے یا نہیں ملتا
کیوں مرے پاس آئے وہ جب تک
جسم سے سر جدا نہیں ملتا
دل کے دو حرف وہ بھی آپس میں
ایک سے دوسرا نہیں ملتا
مرنا ہے خواب زیست کی تعبیر
خواب میں جو ملا نہیں ملتا
کر چکے سیر بھی دو عالم کی
ایک بھی آپ سا نہیں ملتا
کس سرا میں مسافر آ اترا
زندگی کا مزا نہیں ملتا
جس نے دشمن بھلا دئے سارے
ہم کو وہ آشنا نہیں ملتا
جو در کار ساز تک پہنچے
اس کو نایابؔ کیا نہیں ملتا