اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر

ردیف: نہ کر

اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کر

تو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کر

زندہ ہے راہ یار میں اے دل جو مر گیا

پروانہ وار جان فدا کر فغاں نہ کر

شادی کے بعد دے نہ خدایا کسی کو غم

دینا ہو جس کو غم تو اسے شادماں نہ کر

مٹی میں مل چکی ہیں بہت ایسی صورتیں

اتنا غرور حسن تو او نوجواں نہ کر

نایابؔ جی میں سوچ کہاں تک یہ زندگی

اوروں کے نفع کے لئے اپنا زیاں نہ کر

ماخذ: ویکی ماخذ · نبی بخش نایاب