رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر

ردیف: دیکھ کر

رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کر

کون ہنستا ہے کسی کو غم میں گریاں دیکھ کر

داستاں آؤ میں دردوں کی سناؤں آپ کو

بعد میرے کیا کرو گے میرا دیواں دیکھ کر

دیکھیے آئے نہ آئے ناز حوروں کا پسند

میں چلا ہوں غور سے انداز خوباں دیکھ کر

آپ کو کرتے ہوئے برباد کیوں آیا نہ رحم

آفتیں روتی ہیں میرے گھر کو ویراں دیکھ کر

عدل کو نایابؔ رکھ ہر کام میں مد نظر

حق نے دو آنکھیں تجھے بخشی ہیں میزاں دیکھ کر

ماخذ: ویکی ماخذ · نبی بخش نایاب