اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا
ردیف: ہے میرا
اک کافر مغرور دل آرام ہے میرا
کہتے ہیں جسے کفر وہ اسلام ہے میرا
کانٹوں پہ لٹایا جو مجھے میری خطا کیا
ڈر حق سے کہ کہلاتا تو گلفام ہے میرا
ایواں سے مرے تخت اٹھا لیجئے جلدی
مٹی ہی میں مل جانا گر انجام ہے میرا
کیسی ہے چمک میرے سیہ خانۂ دل میں
شاید کہ یہاں بستا خوش اندام ہے میرا
میں تڑپوں تو آرام سے بیٹھو گے نہ تم بھی
نایابؔ رہے یاد تمہیں نام ہے میرا