وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے

ردیف: مرے آگے

وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگے

مجنوں ہوں میں کیا جیب و گریباں مرے آگے

رکھتا ہوں میں سو داغ فراق اک جگر پر

ہے خار سے کم رتبہ گلستاں مرے آگے

دوزخ کو بجھاتا ہوں میں اک اشک سے اپنے

ہے قطرہ سے کم نوح کا طوفاں مرے آگے

روتی ہے مرے خوف سے شبنم بہ سر گل

اصلاح کو بلبل ہے غزل خواں مرے آگے

عاشق ہوں مری جان ہتھیلی پہ دھری ہے

کیا تاب کہ ہو خنجر براں مرے آگے

دنیا کی شش و پنج میں نایابؔ کہاں تک

یہ کام ہیں سب بازیٔ طفلاں مرے آگے

ماخذ: ویکی ماخذ · نبی بخش نایاب