رباعی
- ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیں
- یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔ
- یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیف
- وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگا
- الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شراب
- صورت وہ پہلی کہ ہو مگر ماہ تمام
- سجادہ ہے میرا فلک نیلی فام
- پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نے
- ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیے
- ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار
- کیا بات ہے کارساز تیری میں کون
- جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سب
- اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیرا
- ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بار
- ہر چند لطف و مہربانی پیش آئے
- گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقی
- گو کچھ بھی وہ منہ سے نہیں فرماتے ہیں
- گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیح
- گر عقل و شعور کی رسائی ہوتی
- باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
- انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوں
- اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیں
- عاشق جو ہوا ہے تو کسی پر ناگاہ
- آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔ