رباعی

  1. ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیں
  2. یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔ
  3. یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیف
  4. وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگا
  5. الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شراب
  6. صورت وہ پہلی کہ ہو مگر ماہ تمام
  7. سجادہ ہے میرا فلک نیلی فام
  8. پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نے
  9. ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیے
  10. ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار
  11. کیا بات ہے کارساز تیری میں کون
  12. جاناں کو سر مہر و وفا ہے جھوٹ سب
  13. اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیرا
  14. ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بار
  15. ہر چند لطف و مہربانی پیش آئے
  16. گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقی
  17. گو کچھ بھی وہ منہ سے نہیں فرماتے ہیں
  18. گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیح
  19. گر عقل و شعور کی رسائی ہوتی
  20. باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
  21. انداز و ادا سے کچھ اگر پہچانوں
  22. اے نوش لب و ماہ رخ و زہرہ جبیں
  23. عاشق جو ہوا ہے تو کسی پر ناگاہ
  24. آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔ