ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار
ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار
دین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبار
آئے نہ دوبارہ کیوں کر آئیں کیوں آئیں
سچ ہے کہ تجلی کو نہیں ہے تکرار
ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار
دین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبار
آئے نہ دوبارہ کیوں کر آئیں کیوں آئیں
سچ ہے کہ تجلی کو نہیں ہے تکرار
ماخذ: ویکی ماخذ · سید یوسف علی خاں ناظم