باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
بن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پور
پیری ہے اگر شب جوانی کی سحر
اس صبح کی شام کیا ہے تاریکیٔ گور
باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
بن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پور
پیری ہے اگر شب جوانی کی سحر
اس صبح کی شام کیا ہے تاریکیٔ گور
ماخذ: ویکی ماخذ · سید یوسف علی خاں ناظم